آج مان گیا کہ بینظیر ٹھیک کہتی تھیں۔ عمران خان

آج مان گیا کہ بینظیر ٹھیک کہتی تھیں،

اورسیز پاکستانیوں سے ووٹنگ کا حق واپس لینے اور نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔عمران خان

 

پشاور (سوسائٹی نیوز)

پی ٹی آئی سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ بینظیر ہمیشہ کہتی تھیں کہ پی پی کیلیے قانون الگ اور ن لیگ کیلیے الگ ہے، آج مان گیا کہ وہ ٹھیک کہتی تھیں۔

 

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان نے پشاور میں کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد پارٹی کے مرکزی رہنماؤں کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ملک کو درپیش کئی اہم مسائل پر بات کی اور اپنے آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل سے میڈیا کو آگا کیا۔

 

اس موقع پر عمران خان نے ملک میں نظام انصاف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ن لیگ کے حوالے سے کہا کہ یہ لوگ ہر چیز سے بچتے رہے ہیں، 6 ارب کا تو ان پر قرض ڈیفالٹ تھا، عدالت نے کہا کہ 6 ارب پر مارک ارپ دینے کی ضرورت نہیں۔

 

عمران خان نے کہا کہ اسی قوم کے رویے پر بینظیرہمیشہ کہتی تھیں کہ پی پی کیلیے قانون الگ اور ن لیگ کیلیے الگ ہے، آج مان گیا کہ وہ ٹھیک کہتی تھیں۔

 

ان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان کی تاریخ ہے یہ تو امیرالمومنین بننے جا رہے تھے، ہم ان کو لاہور سے جانتے ہیں کہ کہاں سے کہاں پہنچے، ہم سپریم کورٹ سے حفاظت چاہتے ہیں اور پوری کوشش ہے کہ سپریم کورٹ سے کلیئرنس لیں۔

 

واضح رہے کہ عمران خان نے پریس کانفرنس میں اوورسیز پاکستانیوں سے ووٹنگ کا حق واپس لینے اور نیب ترامیم کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان بھی کیا۔

 

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا انتخابی اصلاحات اور نیب ترامیم کو چیلنج کرنے کا فیصلہ

 

ان کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی ووٹنگ ختم کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

 

عمران خان کا لانگ مارچ روکے جانے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان

 

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے لانگ مارچ روکے جانے پر حکومت کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کردیا۔

 

اس بات کا اعلان انہوں نے پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ ان کے ساتھ شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، حماد اظہر اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

 

 

عمران خان نے کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ نے لانگ مارچ کی اجازت دی اس کے باوجود حکومت نے ہمارے لانگ مارچ کو روکا اور توہین عدالت کی جس کے خلاف میں پیر کو سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ جو کچھ لانگ مارچ میں ہمارے ساتھ ہوا ہم اس کےلیے تیار نہیں تھے، حکومت نے ہمارے پُرامن احتجاج پر تشدد کیا، ڈنڈے برسائے، شیلنگ کی، گھروں پر چھاپے مارے، حکومت نے جیسے حربے آزمائے ان کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کریں گے، پیر کو ہم سپریم کورٹ سے پوچھیں گے کہ لانگ مارچ میں دوبارہ پکڑ دھکڑ ہوگی؟ سپریم کورٹ بتادے یہ دوبارہ ملک بند کردیں گے؟ ادب سے کہنا چاہتا ہوں کہ یہ امتحان عدلیہ کا بھی ہے۔

 

عمران خان نے کہا کہ ہماری جماعت میں کوئی شدت پسند ونگ نہیں یہ لوگ اب ہمارے اوپر کیسز بنائیں گے، ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ لوگ لانگ مارچ کے خلاف ظلم کرنے پر اتر آئیں گے، میں اب کی بار پوری تیاری کے ساتھ آؤں گا، چھ دن کے بعد اعلان کروں گا کہ اسلام آباد مارچ کے لیے کب روانہ ہوں گے۔

 

ملک تباہ ہورہا ہے اور ادارے تماشا دیکھ رہے ہیں

 

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ایک پاکستانی ہونے کے ناطے کہنا چاہتا ہوں کہ ملک تباہی کی جانب گامزن ہے اور ادارے چپ کرکے تماشا دیکھ رہے ہیں، ملک بچانا صرف ہماری ذمہ داری نہیں ہے، اداروں کی ذمہ داری ہے کہ ملک بچائیں۔

 

نیب اور انتخابات ترمیمی بلز چیلنج کرنے کا اعلان

 

انہوں نے نیب ترمیمی بل اور الیکشن ایکٹ ترمیمی بل کو بھی عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ جیسے بنیادی حق سے محروم کرنا ناانصافی ہے، فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے جب کہ اپنی کرپشن چھپانے کے لیے انہوں نے نیب کے قوانین میں ترمیم کی۔

 

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے پرامن لانگ مارچ پر تشدد ہونے پر آئی جی اسلام آباد، سی سی پی او، ڈی آئی جی کے خلاف ایف آئی آرز درج کرائیں گے، تشدد کرنے والے پولیس والوں کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کریں گے تاکہ عوام کو پتا چلے۔

مکمل پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button