تحریک انصاف کے سبطین خان 185ووٹ لیکر اسپیکر پنجاب اسمبلی منتخب

تحریک انصاف کے سبطین خان 185ووٹ لیکر اسپیکر پنجاب اسمبلی منتخب،

سبطین خان نے اسپیکر پنجاب اسمبلی کے عہدے کا حلف اٹھا لیا

 

لاہور(سوسائٹی نیوز)

اسپیکر پنجاب اسمبلی کے انتخاب میں تحریک انصاف نے ن لیگ کو شکست دے دی، پی ٹی آئی کے امیدوار سبطین خان اسپیکر منتخب ہوگئے۔

 

پینل آف چیئرمین کے سینیئر ممبر نواب زادہ وسیم خان بادوزئی کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسپیکر کا نئے اسپیکر کا انتخاب کیا گیا۔ اسپیکر کے لیے تحریک انصاف کی جانب سے سبطین خان اور ن لیگ اتحاد کی جانب سے سیف الملوک کھوکھر کے درمیان سخت مقابلہ ہوا۔

 

اجلاس شروع ہوتے ہی مسلم لیگ نون کے رکن اسمبلی طاہر خلیل سندھو نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کی اجازت مانگی تاہم چیئرمین نے انکار کردیا جس پر ن لیگی رکن نے احتجاجاً پولنگ بوتھ پر چادریں لگا دی۔

 

ن لیگ ارکان کی جانب سے ایوان میں کیمروں کی تنصیب کی جگہ پر اعتراض کیا گیا جس پر پولنگ بوتھ کی جگہ تبدیل کرتے ہوئے انہیں اسپیکر کی نشست کے دائیں اور بائیں رکھ دیا گیا ساتھ ہی بوتھ کے اوپر لگائے گئے سی سی ٹی وی کیمروں کے اوپر بھی کپڑا ڈال دیا گیا۔

 

بعدازاں چیئرمین نے ووٹنگ کا عمل شروع کیا اور ممبران کو دوحصوں میں تقسیم کردیا جس کے بعد خفیہ رائے شماری کے ذریعے ووٹنگ کا عمل ہوا۔

 

اسپیکر پنجاب اسمبلی کے انتخابات میں پہلا ووٹ پی پی 254 افتخار گیلانی نے کاسٹ کیا۔ پی ٹی آئی سے منحرف ہو کر الیکشن جیتنے والے راجہ صغیر کا ووٹ ڈالنے پر لوٹے لوٹے کے نعرے لگ گئے جس پر چیئرمین نے نعرے لگانے سے منع کردیا۔ چودھری نثار علی خاں ووٹ ڈالنے نہیں آسکے۔ حمزہ شہباز شریف، عثمان بزدار، پرویز الہی اور خود چیئرمین پینل وسیم خان بادوزئی نے بھی اپنے اپنے ووٹ کاسٹ کیے۔

 

پی ٹی آئی کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر کے لیے واثق قیوم کا نام سامنے آیا، واثق قیوم نے جب اپنا ووٹ کاسٹ کیا تو حکومتی ارکان نے ڈپٹی اسپیکر ڈپٹی اسپیکر کے نعرے لگائے۔

 

ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری ووٹ ڈالنے آگئے تو ان پر لوٹے لوٹے کے نعرے لگے جواب میں مسلم لیگ ن کی جانب سے بھی شوروغل کیا گیا جس پر چیئرمین پینل نے ارکان کو نعرے بازی سے منع کردیا۔

 

ن لیگی ارکان نے جھگڑے کا آغاز کردیا۔ مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی رانا مشہود اور اور رخسانہ کوکب نے پرزائیڈنگ آفیسر پر حملہ کردیا، رانا مشہور نے بیلٹ پیپر والی کاپی کھینچ لی۔ ُرخسانہ کوکب نے چار بیلٹ پیپر پھاڑ لیے اور ساتھ لے گئیں جس پر پینل آف چئیرمین مسلم لیگ ن کی ایم پی اے پر برہم ہوگئے۔

 

ن لیگی ایم پی ایز نے پولنگ بوتھ کے آگے جمع ہوگے نعرے بازی شروع کردی جس پر پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی طلب کرلی گئی جس نے اسپیکر کی چیئر کے گرد حصار قائم کرلیا۔

 

اسپیکر کے امیدوار سبطین خان نے پینل آف چیئرمین کو تحریری اعتراض جمع کرایا جس میں کہا گیا کہ یہ لوگ چار بیلٹ پیپرز لے گئے ہیں، ان بیلٹ پیپرز کی ریکوری کرائی جائے، یہ بیلٹ پیپرز میرے خلاف استعمال ہوسکتے ہیں جس پر چیئرمین پینل نے رولنگ دی کہ بیلٹ پیپرز واپس کیے جائیں۔

 

ن لیگی رہنما عطا تارڑ نے کہا کہ کچھ دیر پہلے پولنگ میں انکشاف ہوا ہے کہ ق لیگ اور پی ٹی آئی کو جو بیلٹ پیپرز دئیے جارہے ان پر سیریل نمبر درج ہے جس سے ووٹنگ خفیہ نہیں رہی، پرویز الہی اور ان کے صاحبزادے نے دھاندلی کا منصوبہ بنایا ہے، یہ ووٹنگ آئین کے تحت خفیہ نہیں رہی، اس پر نمبر درج نہیں ہونا چاہیے، آئینی طور پر یہ پولنگ کالعدم ہے۔

 

پنجاب اسمبلی حلقہ پی پی 138 سے منتخب رکن میاں عبدالروف نے الیکشن کی شفافیت پر اعتراض اٹھادیا اور کہا کہ مجھے جو بیلٹ پیپر دیا اس پر 340 سیریل نمبر لگا ہوا تھا، یہ خفیہ رائے شماری کے قواعد و ضوابط کے خلاف ہے۔ انہوں نے پینل آف چیئرمین سے مطالبہ کیا کہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

 

ہنگامہ آرائی کے باوجود ووٹنگ کا عمل مکمل ہوگیا جس کے بعد اب ووٹوں کی گنتی کی گئی۔ بعدازاں چیئرمین پینل وسیم بادوزئی نے تحریک انصاف کے امیدوار سبطین خان کی فتح کا اعلان کردیا۔ سبطین خان پنجاب اسمبلی کے نئے اسپیکر منتخب ہوگئے جس پر تحریک انصاف کے ارکان نے ایوان میں نعرے بازی کی۔

 

پینل چیئر وسیم بادوزئی نے اپنے اعلان میں بتایا کہ سبطین خان نے 185 اور سیف کھوکھر نے 175 ووٹ حاصل کیے، جب کہ چار ووٹ مسترد ہوئے۔

 

ن لیگی ارکان میں جلیل شرقپوری، فیصل نیازی، مولوی عیاث الدین اور پی ٹی آئی کے رکن میاں مسعود نے ووٹ نہیں ڈالا، جعلی ڈگری کیس میں نااہل ہونے والے چوہدری کاشف نے بھی ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔

مکمل پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button