سپریم کورٹ کے مناسب فیصلے سے آئین محفوظ ہو گیا۔سراج الحق

آئین و قانون کی بالادستی قائم کرنا اور عوام کو بنیادی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے

لاہور(سوسائٹی نیوز)
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے مناسب فیصلہ دیا، آئین محفوظ ہو گیا، نہیں دیکھتے اس سے کس سیاسی جماعت کو فائدہ یا نقصان ہو گا۔ بغیر کسی مباحثے کے آئین کو تبدیل تو آمروں کے دور میں بھی نہیں کیا گیا۔ ڈپٹی اسپیکر چند سیکنڈ کی رولنگ سے آئین کو نہیں بدل سکتا۔ جماعت اسلامی نے حکومتی اقدام کی مخالفت اس لیے کی کہ روش چل پڑی تو کوئی کل کلاں آئین کی اسلامی دفعات کو بھی ختم کرنے کی رولنگ جاری کر سکتا ہے۔
پی ٹی آئی حکومت کا آج آخری دن ہے، لیکن ابھی سے اپوزیشن نے اس پر گند ڈالنے کے الزامات لگانے شروع کر دیے، یہی رٹ وزیراعظم نے چار سال لگائے رکھی۔ حکمران اشرافیہ کا وطیرہ بن چکا ہے کہ ایک دوسرے پر الزامات لگاؤ، ملک لوٹو اور عوام کو بے وقوف بناؤ۔ حکمرانوں کا کام ادارے ٹھیک کرنا، آئین و قانون کی بالادستی قائم کرنا اور عوام کو بنیادی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
74برسوں میں ایسا نہیں ہو سکا، ملک مختلف تجربات سے گزرا، سبھی ناکام ہوئے، اسی لیے جماعت اسلامی یہ کہہ رہی ہے کہ مسائل کا حل صرف اور صرف اسلامی نظام میں ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نے چار برسوں میں ایک بھی قدم مدینہ کی ریاست کی جانب نہیں اٹھایا۔ وزیراعظم نے مدینہ کی ریاست کا نام لے کر ملک کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی جھولی میں ڈال دیا۔
جماعت اسلامی کے وکلا سود کے خلاف وفاقی شرعی عدالت میں دلائل دیتے ہیں، تو حکومتی وکلا ان کی مخالفت کرتے ہیں، یہی کام پی پی پی اور ن لیگ کے دور میں ہوتا رہا۔ کرپٹ نظام کی حفاظت کے لیے سبھی ایک ہیں۔ وزیراعظم امریکا مخالف ہونے کی بات کرتے ہیں، مگر انھوں نے سارے مشیر امریکا سے درآمد کیے اور ملک کو این جی اوز کی طرح چلایا۔ ہمارے حکمران آج بھی اللہ کی طرف دیکھنے کی بجائے امریکا کی طرف دیکھتے ہیں۔ چار سال وزیراعظم اور ان کے ساتھیوں نے عدل و انصاف کے قیام کے لیے ایک قدم بھی نہیں اٹھایا۔
اللہ تعالیٰ نے مسلمان حکمرانوں کو چار نکاتی پروگرام دیا ہے کہ وہ اقتدار میں آ کر نظام صلوٰۃ اور نظام زکوٰۃ قائم کرتے ہیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا قیام عمل میں لاتے ہیں۔ پی ٹی آئی نے حکومت کے آخری دنوں میں امر بالمعروف کا جلسہ کر کے اپنی طرف سے ذمہ داری پوری کرنے کی کوشش کی اور عوام سے مذاق کیا۔ قوم کے سامنے سبھی ایکسپوز ہو گئے، آپشن صرف جماعت اسلامی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے منصورہ کی مرکزی مسجد میں خطبہ جمعہ اور بعدازاں ٹاؤن شپ لاہور میں تقریب افطار میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ امیر صوبہ پنجاب وسطی جاوید قصوری، نائب امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی وقاص احمد بٹ، سینئر رہنما جماعت اسلامی سید احسان اللہ وقاص بھی اس موقع پر موجود تھے۔ امیر جماعت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے پیکا آرڈی نینس کو کالعدم قرار دیے جانے کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا اور اسے صحافیوں کی جدوجہد کا ثمر قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں آزادی صحافت کے قیام کے لیے معاون و مددگار ہو گا۔
سراج الحق نے کہا کہ آئین میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور قرآن و سنت کو ماخذ قانون تسلیم کیا گیا ہے۔آئین پاکستان میں حضور پاکؐ کی شان کی ضمانت دی گئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا گیا ہے۔ آئین پاکستان میں سود کی ممانعت کی گئی ہے۔جس طرح ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ دے کر آئین کو تبدیل کرنے کی کوشش کی، اس سے جماعت اسلامی کو شدید خدشات تھے کہ کہیں یہ طریقہ آئندہ کے لیے مثال نہ بن جائے۔ اگر سپریم کورٹ اس کے خلاف فیصلہ نہ دیتی، تو کل کو اسپیکر کوئی بھی رولنگ دے کرزمانے کا ہٹلر بن سکتا تھا۔
جماعت اسلامی یہ سمجھتی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کی لڑائی مفادات کے لیے ہے۔ کوئی بھی اسلامی نظام اور عوام کی بات نہیں کر رہا۔ جماعت اسلامی نے مفادا ت کی جنگ میں کسی کا حصہ نہ بننے کا اعلان کیا تھا، تاہم ہم نے پی ٹی آئی کے قومی اسمبلی میں اٹھائے گئے اقدامات کو غیر آئینی قرار دیا اور اس کی وجہ یہی خدشات تھے کہ خدانخواستہ اس سے مستقبل میں آئین پر کوئی بھی حملہ کر سکتا ہے۔
امیر جماعت نے کہا کہ حکمرانوں کی وجہ سے معاشرہ تبدیل ہوتا ہے، اگر حکمران عابد ہوں تو معاشرہ بھی نیکی اور احسان کا مجموعہ بن جاتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے دین سے رہنمائی لینے کی بجائے غیر ملکی طاقتوں کے اشاروں پر کام کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ملک تنزلی کی جانب گیا۔ ہمارے ملک میں کوئی شخص جتنے بڑے عہدے پر ہوتے ہے اتنی ہی بڑی کرپشن کرتا ہے۔پی ٹی آئی نے کرپشن کو ختم کرنے کے بڑے بڑے دعوے جو جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے۔
جماعت اسلامی لوگوں سے درخواست کرتی ہے کہ رمضان کے مہینے میں سراپا دعوت بن جائیں اور دین کا پیغام گلی محلے اور خاندانوں میں عام کرے۔حق و باطل کی پہلی لڑائی اسی مبارک ماہ میں ہوئی تھی اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انقلاب راتوں رات آ جائے گا انھیں حضورؐ اکرم کی تکالیف اور آزمائشیں دیکھنی چاہییں۔ حکومت میں آنا آسان، لیکن نظام بدلنا مشکل۔ جماعت اسلامی نظام کی تبدیلی کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔
مکمل پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button