لانگ مارچ حکومت کیخلاف نہیں اسٹیبلشمنٹ کیخلاف ہے۔ مریم نواز

لانگ مارچ حکومت کے نہیں اسٹیبلشمنٹ کیخلاف ہے۔

مریم نواز

 

لاہور (سوسائٹی نیوز)

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ ’عمران خان لانگ مارچ حکومت کے خلاف نہیں، اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کر رہے ہیں۔منگل کو لاہور میں پریس کانفرس کرتے ہوئے مریم نواز نے سابق وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ہمیں دھمکی نہیں دیتے بلکہ اسٹیبلشمنٹ کو دھمکی دیتے ہیں۔ کیا عمران خان میر جعفر، میر صادق نواز شریف یا شہباز شریف کو کہتے ہیں؟‘

 

مریم نواز نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے حوالے سے کہا کہ ’لانگ مارچ کے مقاصد میں کوئی شک و شبے کی گنجائش نہیں رہی۔ کھلے عام کہہ رہے ہیں خون ہو جائے گا فساد ہو گا تو حکومت کیوں فری ہینڈ دے گی۔‘

 

انہوں نے کریک ڈاؤن کے دوران فائرنگ سے لاہور میں پولیس اہلکار کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’پی ٹی آئی کے رکن نے سیدھی گولی کانسٹیبل پر چلائی۔ ان کی پوری کوشش ہے کہ لا انفورسمنٹ ایجنسی پر حملہ کریں۔ کانسٹیبل کو شہید کرنے سے ان کے ارادے کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔‘

 

مریم نواز کے بقول انہوں نے وزیراعظم اور وزیر داخلہ کو کہا ہے کہ عمران خان کو گرفتار نہ کریں۔ ’کپتان اپنی گرفتاری کے ڈر سے پشاور کے بنکر میں چھپ کر بیٹھا ہے۔ دھرنا دینے دیں، ہم بھی دیکھیں کتنا دم ہے، کتنی دیر بیٹھتے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ ’عمران خان کے بچے باہر محفوط ہیں، اپنے دونوں بیٹوں کو فرنٹ لائن پر کھڑا کریں اور وہ پاکستانی قوم کے بچوں کو ترغیب دے رہے ہیں کہ ڈنڈے کھاؤ۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر نے کہا کہ ’سازش اور خط کا بیانیہ پٹ گیا تو کہنے لگے کہ میرے قتل کی سازش ہو رہی ہے۔ امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہیں تو بھیگی بلی بن جاتے ہیں۔

 

انہوں نے سابق حکومت کو معاشی بحران کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ ملک کو سری لنکا بنانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن کامیاب نہیں ہوں گے۔‘

 

مریم نواز نے کہا کہ عمران خان نے فارن پالیسی کا شیرازہ

بکھیر دیا۔ ’ایک ملک جاتے ہیں تو دوسرے ملک کی چغلی کر کے آتے ہیں۔ آپ نے اپنی نادانیوں سے ملک کے دوستوں کو دشمنی کی طرف دھکیل دیا۔

 

انہوں نے کہا کہ عمران خان پہلے کہہ رہے تھے کہ نیوٹرل جانور ہوتا ہے اور اب کہہ رہے کہ نیوٹرل رہیں۔

مریم نواز نے بتایا کہ حکومت یاسمین راشد کو گرفتار نہیں رے گی کیونکہ وہ کینسر کی مریضہ ہیں۔

مکمل پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

اہم ترین
Close
Back to top button