نیشنل سیکیورٹی کونسل میں بیرونی مداخلت تسلیم ہوئی جس کی بنیاد پر ڈی مارش ہوا۔ شاہ محمود قریشی

نیشل سیکیورٹی کونسل میں بیرونی مداخلت تسلیم ہوئی جس کی بنیاد پر ڈی مارش ہوا،

ضمنی الیکشن میں لوگوں کو لالچ اور ڈنڈے کی بنیاد پر متاثر کیا جا رہا ہے،

الیکشن قواعد کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں،

تحریک انصاف کے ترقیاتی منصوبوں پر ن لیگ کی تختیاں لگائی جا رہی ہیں،

الیکشن کمیشن شفاف ضمنی الیکشن کرانے میں ناکام رہا تو عوام جنرل الیکشن کے نتائج مسترد کر دیگی،

پنجاب کا بجٹ ایوان اقبال میں منظور ہوا تو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ شاہ محمود قریشی

 

ملتان(سوسائٹی نیوز)

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی وائس چیئرمین و سابق وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بطور صوبائی وزیر خزانہ پنجاب کئی بجٹ پیش کئے لیکن پنجاب اسمبلی کا جو ماحول اب دیکھنے میں آ رہا ہے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ سپیکر کی موجودگی میں ڈپٹی سپیکر اجلاس کیسے طلب کر سکتے ہیں۔ اسمبلی بلڈنگ میں ان ہاؤس اجلاس جاری ہے اس کے ہوتے ہوئے کسی دوسری جگہ کیسے اجلاس منعقد کیا جاسکتا ہے۔ پنجاب کا بجٹ اگر ایوان اقبال میں پاس کرایا تو یہ غیر آئینی ہوگا اور عدالت میں چیلنج ہو سکتا ہے۔

 

وزیرخزانہ سپیکر پنجاب اسمبلی کے بلائے گئے اجلاس میں پیش ہوں اور بجٹ پیش کریں۔ گورنر پنجاب سے درخواست کرتا ہو ں کہ وہ حکومت وقت کے ایماپر غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام نہ اٹھائیں۔گورنر ایسے سیشن نہ ھونے دیں وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔

 

نیشنل سیکیورٹی کونسل میں تسلیم کیا گیا کہ بیرونی مداخلت ہوئی جس کی بنیاد پر ڈی مارش ہوا۔ اوریہ سب ریکارڈ حصہ ہے۔ اور اس اجلاس کے منٹس اور کونسل کے احکامات کے مطابق واشنگٹن میں تعینات سفیر کو کہا گیا کہ وہ حکومت پاکستان کا احتجاج پہنچائیں۔

 

انہوں نے کہااصل مسئلہ آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب کو ایوان میں بلانا تھا۔ یہ ایوان آئی جی اور چیف سیکرٹری سے وضاحت چاہتا تھا کے 25 مئی کے ظالمانہ اقدامات کے احکامات کہاں سے آئے۔ ہم افسران کی تضحیک نہیں چاھتے یہ پوچھنا چاھتے ھیں کہ تحریک انصاف کے اراکین پر تشدد کے احکامات کہاں سے آرہے تھے۔بے شک وہ اسمبلی ہال میں نہ آتے۔ اسمبلی میں موجود کسی کمرہ میں بیٹھ کر 25 مئی کے احکامات کی تشریح کر دیتے۔ کیا پنجاب اسمبلی کے ایوان کا استحقاق نہیں کہ وہ کسی سینئر آفسر کو اسمبلی بلا سکے۔ کیا 12 کروڑ افراد کے نمائندوں کا استحقاق نہیں کہ وہ صوبے کے آئی جی اور چیف سیکرٹری کو طلب کر سکیں۔اگر سپیکر رولز کے مطابق ہاؤس نہیں چلاتا تو ایوان کو چلانامشکل ہوگا۔ اوریہ ایوان مچھلی بازار بن جائیں گے۔

 

انہوں نے کہا تارڑ صاحب نے جو کچھ کیا انہیں زیب نہیں دیتا تھا۔ سپیکر کی رولنگ پر عطاء تارڑ نے جو حرکت کیا وہ پڑھے لکھے شخص کو زیب دیتا ہے۔یہ ایسی روایات قائم کررہے ہیں کہ مستقبل میں پاسداری قائم رکھنا مشکل ہوگا۔ انہوں نے کہا پنجاب کے 14اضلاع میں ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں۔ قانون کے دائرہ میں رہ کر سیاسی انداز میں الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

 

الیکشن کمیشن کو شواہد پیش کر دیئے ہیں کہ الیکشن میں سرکاری مشینری کا استعمال کیا جارہا ہے۔ اور وزیر اعلیٰ سے ملاقاتیں کروائی جارہی ہیں۔ لوگوں کو لالچ اور ڈنڈے کے زور پر متاثر کیا جارہا ہے۔لوگوں کو سیاسی طور پر قائل کیا جاسکتا ہے۔ڈنڈے اور طاقت کے زور پر نہیں۔ تحریک انصاف کی منظور شدہ سکیموں پر ن لیگ کی تختیاں لگائی جا رہی ہیں۔ الیکشن قوانین کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔

 

کل ریٹرنگ آفسر نے تمام امیدواروں کو بلایا اور ضابطہ اخلاق بیان کیا۔ ضرورت اس امر کی زبانی نہیں بلکہ ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کروایا جائے۔ 14اضلاع میں ضمنی انتخابات شخصیات کا نہیں بلکہ مستقبل کے سیاسی میدان کا تعین کرے گا۔ اگر الیکشن کمیشن 20 سیٹوں کاضمنی انتخاب صاف شفاف کروانے میں ناکام رہا تو عوام جنرل الیکشن کے نتائج کو تسلیم نہیں کریں گے۔

 

انہوں نے کہا عابد شیر علی آج ملتان آ رہے ہیں۔ میں پوچھتا ہوں ان کا ملتان میں کتنا ووٹ بینک ہے اور کتنا اثر ہے۔ اگر وہ صرف پگڑیاں اچھالنے آرہے ہیں تو لااینڈ آرڈر کے مسائل پیدا ھونگے۔ کل ملتان میں ہمارے ایک دفتر کے حوالے سے جھگڑا پیدا ہوا۔پولیس اور انتظامیہ نے مداخلت کی اور مسئلہ حل ہوا۔اگر ضمنی انتخاب کے دوران ان اضلاع میں نقص امن پیدا ہوا تواس کی ذمہ داری تجربہ کارحکومت ہوگی۔ ہم سرکاری وسائل کے باوجود الیکشن میں حصہ لے کر بھر پور مقابلہ کریں گے۔ ہم سسٹم کی بے بسی اور بوسیدہ نظام کو بے نقاب کریں گے۔

 

انہوں نے کہا حکومت کے پاس معاشی بحالی کا کوئی پلان نہیں ہے۔ ملک میں اس وقت آٹے کی قلت ہے۔ اور ملک میں اس وقت گھی کا سٹاک ایک ہفتے کا رہ گیا ہے۔اگر نیا پام آئل کا سٹاک نہیں آتا توملک میں گھی کا بحران آنے والا ہے۔ گیس کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتو ں میں اضافہ کیا جار ہاہے۔جس سے ملک میں مہنگائی مزید بڑھے گی۔ اس بجٹ سے نہ عوام راضی نہ انکے آقا راضی ھیں۔شہباز شریف بے بس وزیراعظم ہیں۔ چوں چوں کا مربہ حکومت نہیں چلا سکتا۔

 

ہمارا مطالبہ ہے جلد الیکشن کروائے جائیں۔ساڑھے تین سال اپوزیشن رہنما مطالبہ کرتے رہے کہ الیکشن کروائے جائیں۔ آج جب ہم ان کی بات کہ رہے ہیں کہ فوری الیکشن کروائے جائیں تو یہ کیوں بھاگ رہے ہیں۔انہوں نے کہا بلاول بھٹو نے ہمارے دور حکومت میں مہنگائی کے خلاف احتجاج کیا۔ اب دو ماہ میں مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ہوگیا ہے۔ مہنگائی نے عوام کا کچومر نکال دیا ہے۔افراط زر میں بہت اضافہ ہوگیا ہے۔

 

بلاول بتائیں کہ مہنگائی بڑھی ہے یا کم ہوئی ھے انکے مہنگائی مارچ کہاں گئے۔ میں بلاول سے آج کہتا ہوں کہ آؤ آپ کراچی سے مہنگائی کے خلاف مارچ کا آغاز کرو ہم پنجاب سے مہنگائی کے خلاف مارچ کرتے ہیں۔ سندھ پنجاب بارڈر پر ٹاکرا ہوگا۔

 

انہوں نے کہا نیب کو بے ضرر کرنا اور اپنے کیسز ختم کرانا انکا ایجینڈا تھا۔اور یہ لوگ اپنے ایجنڈے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ہم نے انہیں این آر او دینے سے انکار کیا اور آج یہ لوگ این آر او ٹو لیکر اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ عمران خان کے اگلے لائحہ عمل بارے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا پر امن احتجاج کیلئے ہم سپریم کورٹ میں گئے ہیں۔ ہم اس کے فیصلے کی روشنی میں اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

مکمل پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button