crossorigin="anonymous"> بلوچستان کے 23 ڈیم اور درجنوں پل سیلاب میں بہہ گئے،ان کو بنانے والے انجنیئرز اور ٹھیکیداروں کیخلاف کارروائی ہونی چاہیئے۔ روف خان ساسولی - societynewspk

بلوچستان کے 23 ڈیم اور درجنوں پل سیلاب میں بہہ گئے،ان کو بنانے والے انجنیئرز اور ٹھیکیداروں کیخلاف کارروائی ہونی چاہیئے۔ روف خان ساسولی

ملتان(سوسائٹی نیوز )

جمہوری وطن پارٹی کے سابق مرکزی سیکرٹری جنرل و سینئربلوچ رہنما رؤف خان ساسولی نے بلوچستان سمیت ملک بھر میں شدید طوفانی بارشوں کے باعث سیلاب اور ردکوہیوں کی وجہ سے تباہ حالی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں کرپشن کا واضح ثبوت یہ ہے کہ 23ڈیم اور درجنوں پلیں سیلاب کی نذر ہو گئے۔

مگر100سال سے بنائے گئے پل آج بھی قائم و دائم ہیں اور 40سال سے بنائے گئے ڈیم اور پل تباہ ہو گئے۔ سیلاب کی وجہ سے نقصانات کے سبب سینکڑوں قیمتی جانوں کا ضیاع ہو گیا ۔حب ڈٰیم کے انجینئرز کو آفرین ہے کہ حب ڈیم کے اوپر سے پانی گزر گیا لیکن ڈیم نہیں ٹوٹا اگر خدانخواستہ وہ ٹوٹ جاتا تو آدھا کراچی اور حب چکی تباہ ہو جاتے اور مزید شدید نقصان ہو تا۔

یہی صورتحال سندھ، دادو، راجن پور، ڈی جی خان کی ہے جہاں پر قیمتی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ مال مویشی کا ضیاع ہوا اور گھر کے گھر تباہ ہو گئے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ انجینئرنگ کے شعبہ میں غفلت برتنے والے انجینئرز اور ٹھیکیداروں کو نااہل قرار دے کر ان پر مکمل طور پر پابندی عائد کی جائے جن کی کرپشن کی وجہ سے ناقص میٹریل کے استعمال کے باعث ڈیموں اور پلوں کو نقصان پہنچا۔

رؤف خان ساسولی نے مزید کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں کی جو صورتحال ہے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ مرکز سے لیکر چاروں صوبوں میں حکومت نام کی کوئی شے نہیں ہے ۔حکومتیں عوامی فلاح و بہبود کی بجائے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی فرمائشیں پوری کرنے میں مصروف ہیں ۔

فلاحی تنظیموں کو بلوچستان کے بے حال لوگوں کی مدد کے لئے آگے بڑھنا چاہیئے جو آج بے یارومددگار پڑے ہوئے ہیں میری فیصل آباد چیمبرزسمیت سیالکوٹ، گوجرانوالہ، ملتان سے اپیل ہے کہ وہ ماضی کی طرح آج بھی سیلاب سے متاثرہ سیلاب زدگان کی امداد کے لئے سنجیدگی سے کردار ادا کرنا چاہیئے۔

مکمل پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button