امریکا کے ایمن الظواہری پر حملہ کے تہلکہ خیز انکشافات

امریکا کے ایمن الظواہری پر حملہ کے تہلکہ خیز انکشافات

اسلام آباد (سوسائٹی نیوز )

القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت سے متعلق تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے۔

القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کو اتوار کے روز کابل میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک کیا گیا، امریکی حکام کے مطابق ایمن الظواہری نائن الیون حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا اور انہوں نے القاعدہ کی سربراہی اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد سنبھالی۔

ایمن الظواہری کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کی تصدیق امریکی صدر جوبائیڈن نے پیر کے روز کی تھی۔

برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی سی آئی اے کے افسران نے صدر جو بائیڈن اور ان کے مشیروں کو پہلی بار اپریل میں الظواہری اور ان کے خاندان کی کابل میں موجودگی کی اطلاع دی تھی۔

یکم جولائی کو صدر بائیڈن نے کئی اعلیٰ حکام جن میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز اور نیشنل انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر ایورل ہینس شامل تھے ان سے حملے کے بارے میں بریفنگ لی۔

اس کے بعد انتہائی محتاط انداز میں اس آپریشن کی منصوبہ بندی کی گئی۔ 25 جولائی کو صدر بائیڈن نے سی آئی اے افسران اور اعلیٰ مشیروں سے رائے لینے کے بعد اس حملے کی اجازت دی۔

ایمن الظواہری ہلاکت معاملہ، پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کے شواہد نہیں ملے۔

انٹیلیجنس حکام کے مطابق مقامی وقت صبح 6 بج کر 18 منٹ پر ایک ڈرون سے داغے گئے دو ہیل فائر میزائل الظواہری کے مکان کی بالکنی سے ٹکرائے جس کے نتیجے وہ ہلاک ہوگئے۔

امریکی دعوے کے مطابق حملے میں خاندان کے افراد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا جبکہ حملے میں ہیل فائر میزائل استعمال کیا گیا جس میں دھماکا خیز مواد نہیں ہوتا اس میزائل میں چھ بلیڈ نصب ہوتے ہیں جو نشانے پر پہنچتے ہی میزائل سے باہر نکل کر صرف ہدف کو کاٹ کر رکھ دیتے ہیں۔

یاد رہے کہ افغانستان میں امریکی افواج کے آخری دنوں میں کابل میں ایک ڈرون حملے کے دوران غلطی سے 7 بچوں سمیت 10 بے گناہ افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

مکمل پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button