crossorigin="anonymous"> ضمنی الیکشن ہارنے کے ڈر سے یہ وکٹیں اٹھا کر بھاگ گئے ہیں۔عمران خان - societynewspk

ضمنی الیکشن ہارنے کے ڈر سے یہ وکٹیں اٹھا کر بھاگ گئے ہیں۔عمران خان

ملتان(سوسائٹی نیوز )

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ امپورٹڈ حکمرانوں کی کوشش ہے کہ عمران خان کو میچ سے نکالا جائے۔ ہارنے کے ڈر سے یہ وکٹیں اٹھا کر بھاگ گئے ہیں۔مجھے پورا یقین تھا کہ انہوں نے الیکشن سے بھاگنا ہے۔مجھے اندازہ تھا کہ ان کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں۔پنجاب کی 20 نشستوں پر دھاندلی کے باوجود یہ ہار گئے۔الیکشن کمیشن نے ان کے ساتھ ملکردھاندلی کی اور مسٹر ایکس کی مدد کے باوجود ان کو شکست ہوئی۔میں واحد کپتان تھا، جو ہندوستانی امپائروں کے باوجود انڈیا سے جیت کر آیا۔امپورٹڈ حکمران ضمنی الیکشن میں واضح شکست نظر آنے کے خوف میں میدان سے بھاگ گئے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے پی ٹی آئی کے جلسے دیکھ کر یہ اندازہ لگا لیاتھا کہ بال انکے ہاتھ سے نکل چکی ہے۔ 17 جولائی کو 20حلقوں کے ضمنی الیکشن میں الیکشن کمیشن کی مکمل جانبداری کے باوجود انہیں ناکامی ہوئی تھی۔ اب اتوار کے روز ان کی مزید وکٹیں گرنی تھیں اور 25 ستمبر کو میں نے ان کو چیلنج کے طور پے دھاندلی کے باوجود 9 صفر کا رزلٹ دینا تھا۔ اس لئے یہ الیکشن سے بھاگ گئے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملتان میں این اے 157 کی انتخابی مہم کے سلسلے میں بابر چوک ملتان میں بڑے جلسہ کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا ہم انشاء اللہ اقتدارمیں آکر ملک کو آزاد کریں گے۔ اپنے ملک کو پاؤ ں پر کھڑا کریں گے۔ کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائیں گے۔ اور چوروں ڈاکوؤں کا مکمل احتساب کریں گے۔ لیکن بیرون ممالک سے امداد لینے کی بجائے 1کروڑ پاکستانی جو ہمارا اثاثہ ہیں ان سے کہیں گے کہ وہ اپنے ملک میں سرمایہ کاری کریں۔ کیونکہ اب انہیں یقین نہیں ہے کہ ہمارا پیسہ محفوظ رہے گا۔ جب انصاف کا نظام ٹھیک ہو جائے گا تو بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک میں سرمایہ کاری کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مشن ملک کو مضبوط بنا نا اور علامہ اقبال کے خواب کے مطابق ملک کو اسلامی ریاست بنانے ہے۔ اسی لئے میں نے رحمتہ العالمین اتھارٹی قائم کی۔ اورہم تیزی سے ملک کو مدینہ کی ریاست بنانے کی طرف بڑھ رہے تھے۔ لیکن ہمیں مزید مہلت نہیں دی گئی۔ اب بھی وقت ہے کہ نوجوانوں اور بچوں کو یہ بتایا جائے کہ ہم نبی کریم ؐ کے راستے پر چل کر ایک عظیم قوم بن سکتے ہیں۔

عمران خان کہا کہ جس ملک میں پیسہ کے بت کی پوجا کی جارہی ہو اور اس وقت مہر بانو کے مقابلے کا امیدوار پیسوں کا پجاری ہے۔ جس ملک میں معمولی چوری کرنے والا تو جیل میں ہو۔ اور بڑے چور بیرون ملک بیٹھے ہوں۔ اور دوبارہ این آر او مانگ رہے ہوں وہ ملک اپنے پاؤں پر کس طرح کھڑا ہو سکتا ہے۔ عمران خان کہا کہ جب میں اقتدار میں تھا تو مجھے کہا جاتا تھا کہ اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلوں۔ اور اب کہا جاتا ہے میں اسمبلی میں جا کر بیٹھوں۔ لیکن میں واضح طور پر کہ رہاہوں میں اپنے نظریاتی مخالف کے ساتھ تو بیٹھ کر بات کر سکتاہوں۔ لیکن چوروں اور لٹیروں کے سربراہوں نواز شریف اور زرداری کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا۔ اور نہ ہی ان سے بات کرونگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم عظیم قوم اس وقت بن سکتے ہیں جب علامہ اقبال اور قائداعظم کے افکار پر عمل کریں۔ انہوں نے کہا ملتان والوں سن لو ہمیں حقیقی آزادی کی جدوجہد کرنا ہوگی۔ ملک گزشتہ 30سال سے ملک کا پیسہ لوٹنے والوں کو ان کے انجام تک پہنچانا ہوگا۔ میں نے روس سے سستا تیل‘ ڈیزل‘ سستی گندم اور بجلی لینے کی کوشش کی۔ لیکن ہمیں اقتدار سے الگ کردیا گیا ہے لیکن ہم گھبرانے والے نہیں ہیں۔ میرا یہ عزم ہے کہ میں پوری قوم کو ساتھ لیکر سبز پاسپورٹ کی عزت بحال کرونگا۔

انہوں نے کہا ہم نے کسان کو خوشحال کیا، ہیلتھ کارڈ لے کر آئے۔ہم نے ریکارڈ ٹیکس اکٹھا کیا، ریکارڈ ایکسپورٹس کیں۔ہم نے ہر خاندان کو 10 لاکھ کی ہیلتھ انشورنس دی۔ہم نے سود کے بغیر قرضے دیے۔ایک سازش کے تحت ہماری حکومت گرائی گئی۔ ہم نے فتنوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ہم نے پاکستان میں انصاف کی جنگ لڑنی ہے۔انہوں نے کہا آج سارا دن عدالت میں گزارا۔ کیس عدالت میں ہے، اس پر بات نہیں کروں گا۔انہوں نے کہا نواز شریف اور زرداری 30 سال سے ملکی پیسہ لوٹ کر باہر لے جا رہے ہیں۔یہ لوگ دیگر ملکوں کے کہنے پر تمام فیصلے کرتے ہیں۔ امریکی سازش کے تحت آنے والوں نے روس سے سستا تیل نہیں خریدا۔ہم نے روس سے سستی گندم بھی خریدنی تھی۔ہم چاہتے ہیں کہ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلائیں۔ہماری کوشش ہے کہ ملک کے تمام فیصلے پاکستان میں ہوں۔

انہوں نے کہا ہم قرضوں کی دلدل میں دھنسے جا رہے ہیں۔ہماری معیشت مسلسل نیچے جا رہی ہے۔کاشتکاروں کے خرچے بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا انہوں نے سپریم کورٹ پر ڈنڈوں سے حملہ کیا۔ 1997 میں نواز شریف کی حکومت میں یہ سپریم کورٹ پر حملہ آور ہوئے۔دیواریں پھلانگ کر یہ سپریم کورٹ کے اندر گئے۔جسٹس سجاد علی شاہ نواز شریف کے خلاف فیصلہ کرنے لگے تھے۔ انہوں نے کہا تھانوں میں ظلم ہو رہا ہے۔زمینوں پر قبضے ہو رہے ہیں۔ہم سب نے مل کر طاقتور کو قانون کے نیچے لانا ہے۔کامیاب معاشروں میں طاقتور کو قانون کے نیچے لایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا ایک کروڑ اوور سیز پاکستانی ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں پانچ لاکھ اوور سیز پاکستانیوں نے بھی سرمایہ کاری کر دی تو اربوں ڈالر آ جائیں گے۔ اوور سیز پاکستانیوں کی مدد سے ہمارے قرضے ادا ہو جائیں گے۔ انصاف کا نظام ہو گا تو اوور سیز پاکستانی سرمایہ کاری کریں گے۔

انہوں نے مہر بانو قریشی کومخاطب کرتے ہوئے کہا میں نے ملک بھر میں جلسے کئے لیکن این اے 157کے جلسے میں خواتین کی تعداد قابل تحسین ہے۔ جس قوم کی خواتین میں شعور آ جائے، اسے کوئی غلام نہیں بنا سکتا۔ اور میرے علم میں آیا کہ آپ این اے 157 کی انتخابی مہم کے دوارن بڑے بڑے جلسے کررہی ہیں۔ اور اس حلقے کی عوام اور خواتین فیصلہ کرچکے ہیں کہ انہوں نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا ساتھ نہیں دینا۔ انشاء اللہ آئندہ الیکشن میں عوام ہمیں دوتہائی اکثریت دیں گے۔ پاکستانی قوم عمران خان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر چکی ہے۔جلسے سے مخدوم شاہ محمود قریشی‘ مہر بانو قریشی‘ فیصل جاوید‘ صوبائی وزیرصحت ڈاکٹر اختر ملک ودیگر نے خطاب کیا۔ مخدومزادہ زین حسین قریشی‘ عثمان بزدار‘ ملک عامرڈوگر‘ ندیم قریشی‘ حاجی جاوید اختر انصاری‘ ملک سلیم لابر‘ واصف مظہرراں‘ وسیم خان بادوزئی اور اعجاز حسین جنجوعہ و دیگر رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔

مکمل پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button