crossorigin="anonymous"> سیلاب کی تباہ کاریاں اتنی زیادہ ہیں کہ ہمیں نجی شعبہ کے ساتھ پوری دنیا کا تعاون درکار ہے۔ خواجہ جلال الدین رومی - societynewspk

سیلاب کی تباہ کاریاں اتنی زیادہ ہیں کہ ہمیں نجی شعبہ کے ساتھ پوری دنیا کا تعاون درکار ہے۔ خواجہ جلال الدین رومی

(سوسائٹی نیوز)ملتان

جنوبی پنجاب میں اس مرتبہ سیلاب سے جو تباہی آئی ہے۔ وہ ماضی میں کبھی دیکھنے کو نہیں ملی۔کہ صرف کپاس کی انیس ہزار 911 ایکڑ پر تین ارب 98 کروڑ کی فصل سیلابی ریلے میں بہہ گئی ہے۔جبکہ کارن، گنا، دھان، چاول، دالیں اور چارہ جات کی فصلیں بھی تباہ ہو گئیں ہیں۔جس سے آنے والے دنوں میں غذائی بحران پیدا ہو گا۔ہمیں ابھی سے جہاں سیلاب زدگان کی بحالی کے لئے سرعت سے اقدامات اٹھانے ہوں گے۔تو دوسری جانب آنے والے دنوں میں عوام کو فوری طور سستی گندم، معیاری سبزیاں اور دالیں مہیا کرنے کی تدابیر کرنا ہوں گی۔ان خیالات کا اظہار معروف صنعت کار و سابق صدر چمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری ملتان و ڈیرہ غازی خان خواجہ جلال الدین رومی نے جلال الدین رومی فاونڈیشن کے زیر اہتمام جنوبی پنجاب بلوچستان اور سندھ میں سیلاب زدگان کے لئے راشن تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انھوں نے کہا اس وقت ملک کا زیادہ تر حصہ شدید بارشوں کے بعد سیلاب کی زد میں ہے ۔حکومتی وسائل جتنے زیادہ بھی اگر ہوں۔لیکن یہ تباہی اتنی زیادہ ہے کہ نجی شعبہ کے ساتھ ہمیں پوری دنیا کا تعاون درکار ہے۔

خواجہ جلال الدین رومی نے کہا ماضی قریب 2010 میں جب سیلاب آیا تھا تو پوری قوم ان کی امداد کے لیے ایک پیج پر تھی۔لیکن اس مرتبہ سیاسی کشیدگی کے باعث سیلاب زدگان کی اس انداز سے بھر پور امداد نہیں ہو رہی ہے جو پاکستانی قوم کا خاصا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ وقت سیاسی اختلافات کا نہیں بلکہ لوگوں کو فوری طور پر ریلیف آپریشنز شروع کرنے کا ہے۔جس کا اجر خدا خود عطا کرتا ہے۔

خواجہ جلال الدین رومی نے کہا ہم نے اب تک 2005 کے زلزلے اور 2010 کے سیلاب سے کچھ نہیں سیکھا۔کہ اب 2022 کا سانحہ ہمارے سامنے ہے۔جس میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق بارہ سو سے زیادہ قیمتی جانیں موت کے منہ میں جا چکی ہیں۔لیکن ابھی تک وفاقی و صوبائی حکومتوں میں سے کسی نے یہ نہیں سوچا کہ ہمارے ملک میں ڈیم کب بنیں گے۔چھوٹے شہروں اور دیہاتوں کی حفاظت کے لیے ہر سال بند کی مد میں جو بجٹ مختص کیا جاتا ہے۔وہ کہاں خرچ کیا جاتا ہے۔گلشئیر پگھلنے کی صورت میں جو تباہی آتی ہے۔اس سے بچنے کے لیے حکمت عملی کب مرتب کی جائے گی۔دریاوں سے مٹی نکالنے اور نہروں کی بھل صفائی کا نظام کہاں گیا۔2010 کے سیلاب کے بعد کی حکومتوں نے سیلاب سے بچاؤ کے کوئی آل پارٹیز کانفرنس کیوں نہیں بلائی۔

خواجہ جلال الدین رومی نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جس مسئلہ کی نشاندہی کی کہ دریاؤں، ندیوں کی گزرگاہوں پر تعمیرات کی اجازت کس نے دی۔اس پر بھی کارروائی ہونی چاہیے تاکہ مستقبل میں بڑے جانی اور مالی نقصان سے بچا جا سکے۔انھوں نے کہا اب ضرورت اس امر کی ہے ایک قومی سروے کروا کر جائزہ لیا جائے کہ سیلاب کی صورت میں کس کس شہر کو زیادہ خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

خواجہ جلال الدین رومی نے ڈاکٹروں سے اپیل کی کہ بارشوں کے سیلابی پانی گزرنے کے بعد وہاں وبائی امراض پھوٹ پڑھتے ہیں۔جس میں حکومت اور نجی شعبہ کے ڈاکٹروں کے ساتھ پیرا میڈیکل سٹاف کو خدمت خلق کے جذبے کے تحت متاثرین کی بحالی کے لئے کام کرنا ہوگا۔

مکمل پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button